International@Udaan India
انتقامی کارروائی کے ساتھ کشیدگی عروج پر: اسرائیلی حملوں کا نشانہ بنے ایرانی فوجی اڈے
ایران کا ردعمل: فضائی دفاع نے حملے ناکام بنائے، تہران میں صورتحال معمول پر
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافہ: اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی عروج پر پہنچ چکی ہے، جس سے براہ راست جنگ کا خطرہ مزید بڑھ گیا ہے۔ گزشتہ رات اسرائیل نے ایران کے خلاف حملہ کیا، جس میں ایرانی دارالحکومت تہران کے قریب متعدد دھماکے سنے گئے۔ سوشل میڈیا رپورٹس کے مطابق، پانچ زور دار دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں، جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ اسرائیلی حملوں کا نتیجہ ہیں۔
حزب اللہ کے سربراہ کی حالیہ موت کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی بڑھتی جارہی ہے۔ حالیہ دنوں میں ایران نے اسرائیل پر کئی میزائل داغے، جس سے یہ خدشہ پیدا ہوگیا کہ اسرائیل جلد جوابی کارروائی کرے گا۔ ان اندازوں کو سچ ثابت کرتے ہوئے، اسرائیلی دفاعی فورسز (IDF) نے ایرانی فوجی اڈوں پر حملے کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ یہ حملے ایران کی مسلسل جارحیت کے جواب میں کیے گئے ہیں۔
ایران کا دعویٰ: "تمام حملے ناکام بنا دیے گئے"
ایران کی تسنیم نیوز ایجنسی نے بتایا کہ تہران میں صورتحال معمول کے مطابق ہے اور کسی قسم کی غیر معمولی سرگرمی دیکھنے کو نہیں ملی۔ مزید برآں، ایرانی حکام کی جانب سے جاری کردہ ایک ویڈیو میں بھی دکھایا گیا ہے کہ تہران کے امام خمینی ہوائی اڈے پر پروازیں بغیر کسی تعطل کے جاری ہیں۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیل نے تہران کے قریب تین اہم فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ جواباً ایران کا کہنا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے تمام حملوں کو کامیابی کے ساتھ ناکام بنا دیا۔ تاہم، حالیہ حملوں میں ہونے والے نقصان کے بارے میں ابھی تک کسی بھی جانب سے سرکاری طور پر معلومات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔
کشیدگی میں اضافہ اور اس کے ممکنہ نتائج
حزب اللہ کے سربراہ کی موت نے خطے میں مزید کشیدگی پیدا کردی ہے، ایران نے اس کا الزام اسرائیل پر عائد کیا اور اس کے بعد جوابی میزائل حملے کیے۔ اس کے بعد دونوں ممالک کی جوابی کارروائیوں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے، جس سے جنگ کے خطرات بڑھتے جارہے ہیں۔
تہران میں صورتحال بظاہر معمول پر نظر آتی ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششوں کے ذریعے تناؤ کو کم نہ کیا گیا، تو یہ خطہ ایک سنگین بحران سے دوچار ہوسکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ کے بیشتر ممالک اور بین الاقوامی مبصرین اس صورتحال پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ یہ واقعات عالمی استحکام پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔
آگے کیا ہوگا؟
ماہرین کا خیال ہے کہ اگر اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی یونہی جاری رہی تو اس سے پورے خطے میں عدم استحکام پھیل سکتا ہے۔ مکمل جنگ کا امکان ابھی بھی موجود ہے، جس سے تیل کی فراہمی میں رکاوٹ پیدا ہوسکتی ہے اور عالمی سطح پر قیمتوں میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔
JOIN UDAAN INDIA NEWS ON
0 Comments